Posts

Showing posts from May 21, 2017

اسفند یار خان(ایس ایل پی طالبعلم

Published by vision 21 اسفند یار خان(ایس ایل پی طالبعلم تحریر:ساحرہ ظفر : میرے ابو ایک مزدور ہیں۔میری پیدائش سے پہلے والد صاحب ایک کوٹھی میں کام کرتے تھے۔مالک نے کام کے ساتھ رہنے کے لیے سرونٹ کواٹر دیا   اس وجہ سے امی بھی ابو کے ساتھ اسلام آباد آگئی ۔ کچھ عرصے میں میری پیدائش  ہوئی  میرا نام بھی اُن آنٹی نے رکھا تھا جن کے گھر میں  ہم رہتے تھے۔کچھ عرصے بعد  ابو  کی نوکری چُھوٹ گئی  ہم سب گاؤں چلے گئے۔ گاؤں میں پڑھنے لکھنے کا کوئی اتنا خاص رواج نہیں تھا  اور  سکول نہ ہونے کے برابر تھے  ابو شہر میں نوکری ڈھونڈتے رہے آخر کار ابو  ایک دفعہ پھر نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جس سے ہمارے گھر کا خرچ  آرام سے چل سکتا تھا ہم  دوبارہ گاؤں چھوڑ کر شہر آگئے  اور کرائے کے گھر میں  رہنا شروع کر دیا   والد صاحب کو پڑھانے کا بہت شوق تھا انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو سکول میں پہلی کلاس میں  داخل کروایا  چھوٹے بھائی نے کچھ دن سکول جانے کے بعد صاف انکار کر دیا کہ وہ اب سکول نہیں جائے ...

انصاف

انصاف   تحریر:ساحرہ ظفر کہتے ہیں کہ ایک بار ایران کا بادشاہ نوشیرواں شکار گاہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کے ملازم کباب پکا رہے تھے۔ اتفاق سے نمک موجود نہ تھا۔ ایک ملازم قریب کے گاؤں سے نمک لینے گیا۔ نوشیرواں نے اس کو ہدایت کی کہ قیمت دے کر نمک لینا تاکہ مفت لینے کی رسم نہ پڑ جائے اور گاؤں ویران نہ ہو۔ مصاحبوں نے کہا۔ تھوڑا سا نمک مفت لینے سے کیا خرابی پڑ جائے گی؟ نوشیرواں نے جواب دیا ظلم کی جڑ دنیا میں زیادہ لمبی نہ تھی اور جو نیا آیا اس کو بڑھاتا گیا۔ یہاں تک کہ اب یہ نوبت آئی کہ دنیا میں ظلم پھیل گیا اگر رعایا کے باغ سے بادشاہ مفت میں ایک سیب کھا لے گا تو اس کے غلام سارا درخت جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ اگر بادشاہ ظلم و زیادتی سے کسی کا آدھا انڈا بھی لے گا تو اس کی فوج کے سپاہی ہزار مرغوں کے کباب پکا کر مفت کھا جائیں گے۔ انصاف کی شروعات بہت  ہی چھوٹے زاویے سے کی جائے تو انصاف  ایک مضبوط جڑیں رکھنے والے  صدا بہار درخت کی طرح  ہمیشہ قائم و دائم رہتا ہے۔ہمارے ملک میں  سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ہر آنے والی حکومت کو یہ کہہ کر احتساب سے بچنے دیا کہ کو...

تین وزیر

ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔اوروہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے اورتینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کرالگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔ پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اس کی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اورتازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔ دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔ اور تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی۔ اس کے اندر کیا ہے، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔ یہی سوچ کر وزیر تھیلے میں گھاس پُھوس اور پتے بھر لیے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا۔ دوسرے دن بادشاہ تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھ...

Trump first hundred days of war crime

https://awaam.wordpress.com/2017/05/22/trumps-first-hundred-days-of-war-crimes-by-charles-pierson/