انصاف
انصاف
تحریر:ساحرہ ظفر
کہتے ہیں کہ ایک بار ایران کا بادشاہ نوشیرواں شکار گاہ میں ٹھہرا
ہوا تھا۔ اس کے ملازم کباب پکا رہے تھے۔ اتفاق سے نمک موجود نہ تھا۔ ایک ملازم
قریب کے گاؤں سے نمک لینے گیا۔ نوشیرواں نے اس کو ہدایت کی کہ قیمت دے کر نمک لینا
تاکہ مفت لینے کی رسم نہ پڑ جائے اور گاؤں ویران نہ ہو۔ مصاحبوں نے کہا۔ تھوڑا سا
نمک مفت لینے سے کیا خرابی پڑ جائے گی؟ نوشیرواں نے جواب دیا ظلم کی جڑ دنیا میں
زیادہ لمبی نہ تھی اور جو نیا آیا اس کو بڑھاتا گیا۔ یہاں تک کہ اب یہ نوبت آئی کہ
دنیا میں ظلم پھیل گیا
اگر رعایا کے باغ سے بادشاہ مفت میں ایک سیب کھا لے گا تو اس کے
غلام سارا درخت جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔
اگر بادشاہ ظلم و زیادتی سے کسی کا آدھا انڈا بھی لے گا تو اس کی
فوج کے سپاہی ہزار مرغوں کے کباب پکا کر مفت کھا جائیں گے۔
انصاف کی شروعات بہت ہی
چھوٹے زاویے سے کی جائے تو انصاف ایک
مضبوط جڑیں رکھنے والے صدا بہار درخت کی
طرح ہمیشہ قائم و دائم رہتا ہے۔ہمارے ملک
میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ
ہر آنے والی حکومت کو یہ کہہ کر احتساب سے بچنے دیا کہ کوئی بات نہیں پانچ سال کی
بات ہے۔
پانچ سال بعد جو نئی حکومت آئے گی اس کو ہم ایسا ویسا کچھ نہیں
کرنے دیں گےان حالات میں انٖصاف ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو گیا ہے ظلم
قتل و غارت اور کرپشن اُس گندی جڑی
بوٹیوں کی طرح پورے ملک میں پھیلی
ہوئی ہے جن کو بار بار کاٹنے کے باوجود اُگ
جاتے ہیں ۔
Comments
Post a Comment