Mashal khan
معاشرے کی خودکشی
تحریر:ساحرہ ظفر
"یہ دُنیا بڑی خطرناک جگہ ہے اُن لوگوں کی وجہ سے نہیں
جو برائی کرتے ہیں بلکہ اُن لوگوں کی وجہ سے جو سب دیکھ
کر صرف خاموش رہتے ہیں "
26 مارچ 2017 کو ٹویٹر پر بہت ساری سالگرہ کی مبارک باد کی ٹویٹس دوستوں رشتہ داروں اور فالورز نے جیتے رہو اور صدا خوش رہنے کی دعا دی تھی ماں باپ نے بھی اپنے بیٹے کی زندگی کی لمبی دعائیں کی ہو گی بہنوں نے بھائی کے جنم دن کے موقع پر خوشی منائی ہو گی
26 سالہ مشال خان ماں باپ کا اکلوتا بیٹا شعبہ ابلاغ عامہ میں چھٹے سمسٹر کے طالب علم تھے ماں کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا سوتیلی ماں اور سگے باپ کے ساتھ رہتے تھے 13 اپریل 2017 کو ان ہی کے دوستوں نے مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ان کے ساتھیوں نے نہ صرف شہید کیا بلکہ لاش کو برہنہ کر کے اُوپر سے پتھر برسائے
مشال کے قریبی دوست عبداللہ سے کہا قرآنی آیات سُناؤ آیات سُنانے کے باوجود 3 ہزار کا ہجوم جس میں طالب علموں سمیت اساتذہ بھی شامل تھے اُنھوں نے عبداللہ کو بُری طرح سے مارنا شروع کر دیا ۔
شاید عبداللہ کو ابھی بہت سارے رازوں اور ناپاک عزائم سے پردہ اُٹھانا تھا پولیس کے بروقت آنے پر اُسے فورا ہسپتال پہنچایا گیا
لیکن بے رحم ہجوم نہ رُکا اور ہوسٹل کی طرف بڑھ گیا جہاں مشال خان اپنے کمرے میں تھے ہوسٹل وارڈن نے ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے دروازہ بند کر دیا تاکہ یہ لوگ کسی کو نقصان نہ پہنچا سکیں ہجوم نے پرواہ کیے بغیر ہوسٹل کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے مشال خان کو باہر نکال کر فائرنگ کی اور پھر لاش کو برہنہ کرکے لاتیں ماری پتھر مارے یہاں تک کے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔
الفاظ تحریر کرتے ہوئے میری روح کانپ رہی ہے کہ کیا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے ایک لمحے کے لیے عقل یہ سوچتے ہوئے ہڑ بڑا رہی ہے کہ ولی خان کوئی مدرسہ نہیں تھا جہاں ایک قاری یا مفتی کا راج ہو بلکہ ایک یونیورسٹی ہے جہاں پر ملک کے کونے کونے سے لوگ پڑھائی اور کچھ سیکھنے کی غرض سے آتے ہیں
مشال خان نے 24 اکتوبر 2016 کو اپنے فیس بُک سٹیٹس میں لکھا میرے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ بنا گیا ہے جس میں میرا نام تحریر کیا گیا ہے مہربانی فرما کر اس اکاؤنٹ سے محتاط رہیں اور یہ اکاؤنٹ بنانے والا شخص میرے دوستوں میں سے ہی ہے جو میری کردار کُشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
ریاست ماں بھی ہوتی ہے اور باپ بھی اور ماں باپ بچوں پر جھوٹے الزام نہیں لگاتے ہوتے یہاں تو ہماری ریاست ہی الزام کو حر ف آخر مانتی ہے
اس کی زندہ مثال سلمان تاثیر کو یہ کہہ کر قتل کیا وہ گستاخ رسول ہے جبکہ ممتاز قادری کو عاشق رسول کہہ کر اُس کی قبر پر پھول چڑھائے گئے ہماری اسی سوچ کو مزید عروج بخشنے کے لیے ولی خان یونیورسٹی میں چند مہینے پہلے ایک پروگرام ممتاز قادری کے بینرز کے نیچے ہوا اور اُسی بینر کے نیچے مشال خان کو قتل کرنے کے بعد برہنہ کر کے پھینکا گیا
ٹھیک ہے ہم مانتے ہیں گستاخی کوئی نہیں برداشت کرتا اور نعوذ با للہ وہ بھی آخری نبی کی لیکن مشال خان نے گستاخی شان میں جو الفاظ کہے تھے وہ کیا تھے کسی کو کچھ نہیں پتا جو بھی کہے گا وہ کہے گا نعوذ باللہ گستاخی رسول کی ہے بس سُنا تھا اسی بنا پر قتل کر دیا اسی ہے بنیاد پر چند مہینے کچھ بلاگرز کو اغوا کیا گیا جن کے بارے میں صرف ہر کسی سے یہی سُنے کو ملا کہ گستاخ رسول تھے کیا الفاظ کہے وہ کسی کو نہیں پتہ کیونکہ ہمارے ماں باپ کو ثبوت کی ضرورت ہی نہیں اگر کسی مکار کمینے بہروپی نشریاتی ادارے یا تھکے ہارے قلم نگار نے بول دیا تو ہمارے لیے سچ ہے ہم نے تحقیق نہیں کرنی اور نہ ہی چھان بین کرنی ہے
اس سارے معاملات میں میرا دل و دماغ ہر گز یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ 4 ہزار لوگوں کو ایک ہی دن غیرت آگئی بلکہ یہ سب سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی۔
بہت سارے لوگوں کو اس واقعے کا بعد گرفتار کیا گیا ایف آئی آرکٹ گئی لیکن کس کے خلاف کیس درج ہوا کس کے خلاف ایف آئی آر کٹی اُن کے خلاف جنہوں نے مشال خان کو مارا یا اُن کے خلاف جنہوں نے ایسا ماحو ل پیدا کیا ہے اس سارے عمل میں ہمیں اپنے اردگرد ایسے عناصر پر نظر رکھنا ہو گی اور ذیادہ سے ذیادہ اُن سے بچنا ہو گا جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں ورنہ معاشرے کی ایسے ہی خودکشی ہوتی رہے گی اور ہم مکار ،چالباز اور بے ایمان بہروپیوں کے ہاتھوں تماشائی بنتے رہیں گے
Comments
Post a Comment