بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنے کے مؤثر اور عملی طریقے
تحریر ساحرہ ظفر
آج کل اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کے استعمال نے بچوں کو اسکرین کے سامنے جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ والدین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ بچوں کو اسکرین سے دور رکھیں اور انہیں ایسی سرگرمیوں میں مشغول کریں جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ اس تحریر میں چند ایسی عملی تجاویز لکھ رہی ہوں جن کے ذریعے آپ بچوں کا اسکرین ٹائم کم کر کے انہیں حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں مصروف کر سکتے ہیں۔ یہ تجاویز میرا ذاتی تجربہ ہے
جنہیں آزما کر میں نے اپنے بچوں کو اسکرین کی لت سے دور رکھا ہے۔
اگر آپ کے پاس مخصوص کھلونے یا کھیلنے کا میدان نہیں ہے تو صرف ایک میٹ یا موٹی چادر بچھا کر بچوں کو اس پر چھلانگیں لگانے دیں۔ یہ ایک سادہ اور محفوظ کھیل ہے جو بچوں کے لیے دلچسپ بھی ہے۔ جمپنگ کرنے سے بچوں کی توانائی مثبت طریقے سے خرچ ہوتی ہے اور ان کی جسمانی قوت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سرگرمی بچوں کو انرجی سے بھرپور رکھتی ہے اور اسکرین سے دور رکھتی ہے۔
بچوں کو تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مٹی یا کلے فراہم کریں۔ یہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے اور اس سے بچے مختلف اشکال بنا سکتے ہیں جیسے کہ جانور، پھول، برتن وغیرہ۔ مٹی سے کھیلنے سے بچوں کی تخیل کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی انگلیوں کی مہارت بھی بہتر ہوتی ہے۔ جب بچے خود کچھ بنا کر دیکھتے ہیں تو انہیں ایک خوشی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اسکرین کو بھول جاتے ہیں۔
آپ بچوں کے لیے مٹی باہر کسی کھلے میدان یا پارک سے بھی لا سکتے ہیں۔ مٹی لاتے وقت خیال رکھیں کہ وہ صاف اور کیڑے مکوڑوں سے پاک ہو۔ اگر ممکن ہو تو مٹی کو چھان کر اور دھو کر صاف کرلیں تاکہ بچوں کے لیے محفوظ رہے۔
گھر میں استعمال ہونے والی بوتلوں کے ڈھکن جمع کریں اور انہیں بچوں کو دیں۔ آپ ان ڈھکنوں سے مختلف سرگرمیاں کروا سکتے ہیں جیسے کہ گننے کی مشق، رنگ کے حساب سے ترتیب بنانا، یا مختلف ڈیزائن بنانا۔ یہ سرگرمی نہ صرف بچوں کو مصروف رکھتی ہے بلکہ انہیں حساب اور ترتیب کا احساس بھی دلاتی ہے۔
ماں بچوں کے ساتھ دوڑ لگائے یا گھر میں چھوٹے موٹے جسمانی کھیل کھیلے۔ اس سے بچوں کو ایک بہترین ورزش کا موقع ملتا ہے اور ان کا دھیان بھی بٹتا ہے۔ دوڑ اور جسمانی کھیلوں سے بچوں میں مسابقت کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ تازہ دم ہو جاتے ہیں۔ آپ ان کے ساتھ رسہ کشی کا کھیل بھی کھیل سکتے ہیں یا کسی منزل تک پہنچنے کی دوڑ لگا سکتے ہیں۔
گھر میں موجود پرانے برتنوں کو بچوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں۔ ایک برتن میں اخروٹ یا کوئی اور چیز ڈال دیں اور بچوں سے کہیں کہ وہ انہیں ایک سے دوسرے برتن میں منتقل کریں۔ یہ سرگرمی نہ صرف ان کے ہاتھوں کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ان کی توجہ بھی برقرار رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام ان کے ذہنی سکون کا باعث بنتے ہیں۔
بچوں کو چھوٹے گھریلو کاموں میں شامل کریں جیسے کہ بستر کی چادر ٹھیک کرنا، پانی پلانا، جھاڑو لگانا وغیرہ۔ ان سرگرمیوں سے بچے اپنی عمر کے حساب سے ذمہ داریاں سیکھتے ہیں اور اسکرین سے بھی دور رہتے ہیں۔ یہ تربیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس باغیچہ ہے تو بچوں کو پودوں کو پانی دینے یا پتے جمع کرنے کا کام دیں۔
بچوں کو مختلف رنگین کتابیں دیں اور ان میں رنگ بھرنے کا کام دیں۔ اس سے نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کا دھیان بھی اسکرین سے ہٹتا ہے۔ آپ انہیں مختلف تصویریں بنا کر دیں اور کہیں کہ وہ اپنی مرضی کے رنگوں سے انہیں بھریں۔ یہ سرگرمی بچوں کو مصروف رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور اس سے ان کا ذہن بھی سکون میں رہتا ہے۔
بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بات کریں، انہیں کہانیاں سنائیں، ان سے ان کے دن بھر کی باتیں پوچھیں۔ اگر بچے کسی چیز میں دلچسپی لے رہے ہیں تو انہیں اس کے بارے میں مزید بتائیں۔ کہانیاں سننے سے بچوں کی زبان بہتر ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کو بھی بہتر طریقے سے بیان کرنا سیکھتے ہیں۔ اس طرح آپ کی اور بچے کی قربت بڑھتی ہے اور اسکرین کی جگہ حقیقت پسندانہ بات چیت لے لیتی ہے۔
بچوں کو مختلف چیلنجز دیں جیسے کہ گیند پکڑنا، کتابوں کی ترتیب بنانا، یا اپنی پسند کی چیز ڈھونڈنا۔ ایسے گیمز بچوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں اور ان کا دھیان اسکرین سے ہٹاتے ہیں۔ اس سے بچوں میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور ان کا دماغ مزید متحرک ہوتا ہے
اگر مائیں بچوں کو ان چھوٹے چھوٹے گھریلو کاموں اور سرگرمیوں میں شامل کریں تو اس سے بچوں کی تربیت میں بہتری آتی ہے اور اسکرین کی عادت بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان سرگرمیوں سے ماں کا کام وقتی طور پر بڑھ جائے گا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ آپ کی چند سال کی محنت کے بعد بچوں کی باقی زندگی آسان ہوجائے گی۔ بچوں کو متحرک اور خوش باش رکھنے کے لیے ان چھوٹے چھوٹے طریقوں کو آزمائیں اور بچوں کو اسکرین کی دنیا سے باہر حقیقی زندگی کا تجربہ دیں۔
Comments
Post a Comment