انسان
،انسان کو مار رہا ہے۔
تحریر:ساحرہ ظفر
غفلت،لاپرواہی ،سازش
یا پھر انسان کی انسان کو مارنے کی نئی ترکیب کھیلی جا رہی ہے۔میرے ملک
میں انسان انسان کو پہلے کبھی دھماکے سے
اُڑاتا یا حوا کی بیٹی کو غیرت کے نام پر کبھی
قتل کرتا تو کبھی جرگے کے بڑے فیصلہ کر کے
گھر کی رحمت کو بیچ دیتے یہ عمل آج بھی رُکا نہیں بلکہ زور و شور سے جاری و ساری
ہے لیکن اسی عمل کے ساتھ ساتھ آج کل
مارنے کا عمل ایک نئے طریقے سے
شروع ہے۔
مسلسل انسانوں کی لاشیں ایسے گرائی جا رہی ہیں جیسے جنگلی
جانوروں کا شکار ہو رہا ہے۔آج صبح تقریبا 8 بجے کے لگ بھگ کراچی کے علاقے لانڈی میں دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی جس سے 18 افراد ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئےدونوں
ریل گاڑیوں کی آپس میں تصادم کی وجہ سگنل خراب ہونے کی وجہ بتائی جا رہی ہے جس سے ڈرائیور کو دوسری کھڑی
ریل گاڑی نہیں دکھائی دی اور آپس میں
تصادم ہو گیا ۔
اس سے ایک دن پہلے اسلام آباد میں نجی یونیورسٹی کی بس کی بریکیں فیل ہونے کی وجہ سے ایک طالبہ جاں بحق ہو گئی اور 30 سے زائد شدید
زخمی ہو گئی تھی اُسی روز کراچی میں ایک اور نجی یونیورسٹی کی بس اُلٹنے سے 4 افراد ہلاک اور 20 سے زاہد زخمی
ہوئے۔
دوسری طرف
گڈانی جہاز آتشزدگی 22اکتوبر کو بھارتی عملے نے فروخت کیا جہاز بیچنے والے عملے کے بھارتی ہونے کی وجہ سے
معاملہ مشکوک ہوگیا۔
شپ بریکنگ یارڈ میں کھڑے جہاز میں ہولناک دھماکے کے بعد آگ
لگی،دھماکا اس قدر طاقت ور تھا کہ جہاز کے ٹنوں وزنی ٹکڑے سیکڑوں فٹ دور جاکر گرے۔
ایک مزدور کی لاش جہاز سے 2کلو میٹر کے فاصلے سے ملی، اتنا طاقتور
دھماکا کس چیز کا تھا؟ اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں،دھماکے اور آگ لگنے سے جاں
بحق افراد کی تعداد 18ہو چکی ہے جبکہ واقعے میں 58 افراد زخمی ہیں۔
جہاز میں آتش گیر اور دھماکا خیز کیمیکلز اور سلنڈرز موجود
ہیں جس کے باعث آگ لگنے کے 32 گھنٹے بعد بھی جہاز میں دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور
بدستور آگ لگی ہوئی ہے۔
ان سارے واقعات کی شروعات ہمیشہ عمران خان خان کے دھرنے اور
جلسے جلوس کے عین وقت پر ہی کیوں ہوتی ہے؟کیوں لاشیں اسی وقت گرائی جاتی
ہیں؟ شاید پاناما لیکس کی تحقیق کے ساتھ ساتھ اس بات پر نظر ثانی کی سخت ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment