خوش آمدید--


خوش آمدید--

لیکن کب تک ایسا چلتا رہے گا۔ میں اپنے ہی معاشرے کا سسکتا ہوا نظام دیکھ رہی تھی ۔مسلسل ٹی وی چینل پر چلتی ہوئی خبر  کو  جانچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
لوگ جوق درجوق  گاڑی سے نکلنے والے کالے  تھری پیس سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر چشمہ  لگائے ہوئے کل کے لڑکے جس کی عمر لگ بھگ 27 سال ہو گی اُس کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ بالوں میں صاف چاندنی اور بڑی مشکل سے کمزور ٹانگوں پر اپنے جسم کو سہارے ہوئے  چند معزز اور جانے پہچانے جہنوں نے اس  قوم کی کئی بہاریں دیکھی تھی وہ   ایک نوجوان لڑکے کے لیے کھڑے تھے۔
یہ نوجوان   اپنی محنت سے آج اس مقام پر پہنچا تھا کہ اُس کی باپ سے بڑی  عمر کے لوگ اُس کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔شاید کوئی بہت محنتی لڑکا ہے۔ نہیں نہیں  تو پھر دن بھر مزدوری کر کے رات کو سڑک کے کنارے لگی لائٹس کی روشنی میں بیٹھ کر   پڑھتا تھا ۔نہیں ایسا بھی نہیں ہے تو پھر کیا ابا کے ساتھ تندور پر روٹیاں پکا کر  ابا کا ہاتھ بٹاتا تھا-
یہ گبھرو نوجوان برینڈڈ سوٹ میں ملبوس  کوئی محنت کش کا محنتی بیٹا نہیں   پسینے میں شرابور ہونے والا لوہار نہیں   اور نہ ہی کوئی ایک وقت پر کھانا ملنے والا شکر  گزار نوجوان نہیں بلکہ یہ نوجوان  سابقہ  صدر آصف علی زرداری کا صاحب زادہ جناب بلاول بھٹو ہے۔
جن کو چند صفحوں پر مشتمل تقاریر لکھ کر دی جاتی ہیں اور اُن کو سیکھانے کے لیے سینکڑوں معزز لوگ اُن کی مدد کرتے ہیں۔وہ   لوگ  جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا خون   پسینہ ایک کر کے  زندگی اُن کے لیے قربان کر دی ہے ۔
میرے معاشرے کا حال یہ ہے کہ کچھ  دن پہلے ٹی وی چینل پر ایک خبر بار بار نشر ہو رہی تھی کہ آصف زرداری کے بیٹے  بلاول زرداری آج ائیر پورٹ پر اُترے  تو پاکستان کے  بڑے رہنماؤں نے اُن کا استقبال کیا ہے۔کل کا لڑکا جس کا سیاست کے لیے کوئی ہاتھ نہیں حتی کہ اُسے یہ بھی نہیں    پتہ کہ پاکستان  میں کیا ہو رہا ہے۔اُس کے استقبال کے لیے پچاس سال کی عمر کے لگ  بھگ معزز لوگ قطار میں کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

Mashal khan

ناجائز فائدہ

بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنے کے مؤثر اور عملی طریقے