سوالات
سوالات
تحریر:ساحرہ ظفر
کڑ کڑ کھن کھن کی آواز آج کافی دنوں کے بعد دادا جان کو سُنائی دی ہو گی
اُف اللہ آج عائشہ تو نہیں بچ پائے گی
عائشہ نے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آنکھیں بند کر
کے بس یہ تصور کرنے لگی جوں ہی میں
آنکھیں کھولوں گی دادا جان کو دروازے کی چوکھٹ پر پاؤں گی ۔
اماں ابا کا
ساتھ میرے بچپن میں چھوٹ گیا تھا اُن کی وفات کے بعد دادا جان نے مجھے ابا اماں دونوں بن کر پالا ۔
مجھے وہ دن کیسے بھول سکتے
ہیں جس دن دادا جان نے میرا یو
نیورسٹی میں داخلہ کروایا تھا تو ایڈمیشن آفیسر نے کہا بی بی آپ اپنا فارم بھریں ۔
میں نے سرپرست کی جگہ دادا جان کے دستخط کروائے اور دالد کا
نام اور والدہ کی نام کے سامنے والے خانوں
میں اپنے
ابا یعنی اپنے دادا کا نام لکھا
آفیسر نے فارم کو
دیکھتے ہی اپنی عینک کو ایک دو دفعہ سیٹ کیا اور
اُونچی آواز میں مخاطب ہو پھینکی
سی مسکراہٹ دیتے ہوئے بولا مس عائشہ یہ کیا
والد کا نام ۔۔۔۔۔ولید بٹ خان
والدہ کا نام ۔۔۔۔۔۔۔ولید بٹ خان
سر دراصل ہمارے ابا بھی ہمارے دادا ہیں اور اماں بھی
لیکن
مس ایسا نہیں ہو سکتا آپ مرحوم کا نام لکھیں لیکن اس طرح نہیں ہو سکتا آفیسر کے
لاکھ اسرار اور دادا جان کے کہنے کے باوجود میں نہیں مانی آخر کار آفیسر نے سر مثبت میں ہلا کر کہا برائے مہربانی کاؤنٹر
نمبر 9 میں فارم جمع کروا کر کاؤنٹر نمبر
11 سے تصدیقی رسید لے لیں آپ کا داخلہ ہو چکا ہے۔
دادا کی آنکھوں کی چمک اور
خوشی میں اُن کی مسکراہٹ سے ہی اندازہ لگا سکتی تھی جو صاف چھلک رہی تھی ۔
آج یونیورسٹی کے آخری امتحانات کے بعد میں نے کچن کا رُخ کیا تھا وہ بھی صرف گلاس اُٹھانے آئی تھی تاکہ میں پانی پی سکوں اور دادا جان کو بھی پلا
سکوں لیکن گلاس کیا اُٹھایا دس برتن اور ساتھ گرا کر محلے والوں کو بھی
باخبر کیا کہ آج عائشہ کچن میں آئی ہے ۔
آج تو دادا جان مجھے نہیں
معاف کریں گے۔
دادا جان نے ایک بات صاف اور واضح الفاظ میں مجھے بتائی
ہوئی ہے تربیت میں کسی قسم کی کوئی رعایت
نہیں برتی جائے گی۔
کچن میں مجھے کھڑے پانچ منٹ سے زیادہ ہو گئے تھے
سر کو پیٹتے ہوئے ارے عائشہ کھڑے کھڑے تو ماضی میں چلی گئی ہے آنکھیں کھول
اور سامنے دادا کو دیکھ آہستہ آہستہ
آنکھیں کھولی اور دیکھا برتن اُسی طرح نیچے پڑے
چوکھٹ خالی ۔
ہ ہ ہ ہیں ۔۔۔
آج دادا جان تک آواز نہیں گئی وقت کب کسی کا انتظار کرتا ہے گھڑی کی ٹک
ٹک مجھے بار بار اپنے طرف مخاطب کر
کے یہ بتا رہی تھی کہ بی بی 7 منٹ ہو
گئے ہیں آپ کو کچن میں کھڑے ہوئے اور یہ جاننے کے باوجود بھی کہ دادا کی تربیت کا ا
اہم حصہ وقت ضائع نہ کرنا بھی ہے ۔
لیکن دادا کیوں نہیں آئے نہ کوئی آواز آئی
خدا خیر کرے میں
بھاگم بھاگی کمرے کی طرف بڑھنے لگی تو دیکھا دادا لان میں بیٹھے گہری سوچ میں گم
ہیں
قریب پہنچی تو دادا کے سامنے ایک پُرانا زنگ سے بھرا باکس سامنے پڑا ہوا تھا
دادا جی آپ کن سوچوں میں گم بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو پتہ ہے آج
میں بہت سارے برتن گرا کر آئی ہوں
دادا میں کان میں زور سے چیخ کر بولی
ج ج ج ج۔۔۔۔۔۔۔جی
عائشہ پتر تم نے کچھ کہا
دادا جی
کیا ہواہے کیوں پریشان بیٹھے ہیں ؟اور اس باکس میں کیا ہے؟
پتر کچھ نہیں ہے
نہیں نہیں دادا جی اس کو کھول کر مجھے دکھائیں پلیز پلیز
دادا نے باکس کھولا تو اس میں چھوٹی چھوٹی کاغذ کی بند کی
ہوئی پرچیاں پڑی ہوئی تھی
دادا جان یہ کیا ہے ؟
بیٹا یہ عوام کے سوالات ہیں جو پچھلے 70 سالوں سے
اکھٹے ہو رہے ہیں اور کوئی ان کا جواب
نہیں دے رہا ہے ۔
Comments
Post a Comment