تقدیر
تقدیر
کاش دروازہ خود ہی بند ہو جائے۔اب بار بار نہیں اُٹھنے ہوتا ۔میں ٹی کے آگے بیٹھے
مسلسل اس کشمکش میں مبتلا تھی کہ کوئی ہو
جو دروازہ بند کر دے۔خیر اسی سوچ میں
گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی تھی۔
ٹی
وی لگا اور کُھلا دروازہ میں سب بھول گئی تھی۔صبح اذان کی آواز سے جب میری آنکھ
کھُلی تو عجیب کمرے کا ماحول تھا۔ان حالات
کو دیکھتے ہوئے ایک دم میرے رونگھنٹے کھڑے ہو گئے۔آؤ دیکھا نہ تاؤ باہر کی طرف
بھاگی تو سب سو رہے تھے۔میرا گھر سڑک کے قریب ہونے کی وجہ سے عموما اماں الارم کی طرح مجھے وقتا فوقتا یہ بات ضرور یاد دلاتی ہوتی تھی کہ کمرے کا
دروازہ اچھی طرح بند کر لیا کرو۔خیر اماں کی بات کو کبھی دل و دماغ میں نہیں
بٹھایا ۔
اماں
جونہی اُٹھی میں نے دل میں شکر ادا کیا اور اس بات پر یقین کر لیا کہ اماں اپنے
کمرے کی طرف جا رہی ہیں۔لیکن اماں اچانک دروازے سے پیچھی مُڑی اور ایک دم کے لیے رکھی رخشندہ تجھے یاد ہے۔
آج
کمرے کے حالات دیکھ کر میں یقین سے کہہ سکتی تھی کہ آج اماں کی بات سچ ہو گئی
ہے۔آج کمرے کا چور نے صفایا کر دیا ہے۔لیکن میں اماں کو کیا بتاؤ گی کہ میں دروازہ
کُھلا چھوڑ کر سو گئی تھی۔۔
نہیں
نہیں کچھ نہیں بتاتی اماں نے پھر چُپ نہیں
ہونا اماں اتنی سخت اور بہادر خاتون ہیں کہ وہ تھپڑ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتی
ہیں۔
خیر
اماں نماز کے بعد میرے کمرے میں آئی اُن کے آنے سے پہلے میں کمرے کو بہترین طرح ٹھیک
کر چُکی تھی۔اماں بیٹا کیسی گزری آپکی رات جی اماں بہت اچھی لیکن نہ جانے کیوں
مجھے لگ رہا تھا کہ اماں کو فورا پتا چل گیا ہے کہ آج دروازہ کُھلا
ہوا تھا۔
اچھا
بیٹا ذرا مجھے پرس دینا جو پچھلے ہفتے میں
نے تمھیں دیا تھا اُس میں میرے کچھ پیسے تھے جو میں نے آج دینے ہیں۔میں اُٹھی اور
فورا الماری کھولی تو میرے ہوش جیسے اُڑ
گئے ہوں الماری میں ہر چیز بکھری ہوئی تھی اور اماں کا پرس کیا کہ میری کئی قیمت
چیزیں غائب تھی۔اب میں اماں کو کیا جواب دوں گی کہ یہ سب میری سُستی ہے۔
اماں
جلدی کرو۔لیکن اماں یہاں تو کوئی پرس نہیں ہے ۔اماں دراصل بات یہ ہے کہ رات کو میرے کمرے کا دروازہ کُھلا رہ گیا تھا
۔مجھے لگتا ہے کہ رات کو ضرور کوئی چور آیا تھا۔
اب
اماں
Comments
Post a Comment