کوئی نہ کہنے والا نہیں تھا

کوئی نہ کہنے والا نہیں تھا---
بھلے زمانے کی بات ہے کہ علی اور بلال بہت اچھے دوست  ہوا کرتے تھے۔علی کی عمر لگ بھگ  5 سال تھی اور بلال  7 سال کا تھا۔۔
دونوں دوست اکثر اکٹھے کھیلتے کُودتے تھے۔حتی کہ شرارتیں بھی دونوں  مل کر کیا کرتے تھے۔ایک دن دونوں کھیل کود اور باتوں میں اتنے مشغول ہو گئے کہ اُن کو اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ اپنے گاؤں سے کافی دُور نکل آئے ہیں۔
اچانک جب وہ ایک ویرانے علاقے میں پہنچے تو اُن دونوں کو احساس ہوا کہ اس علاقے میں  اُن دونوں کے سوائے دُور دُور تک کوئی دکھائی نہیں  دے رہا تھا۔اس سارے معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں دوست بہت پریشان ہوئے۔
 بلال نے علی کو حوصلہ دیا اور یہ کہہ کر اُس کا ڈر کم کیا کہ وہ بہت جلد کوئی نہ کوئی باہر نکلنے  کا راستہ  ڈھونڈ لے گا۔
بلال نے علی  کی پریشانی  کو دیکھتے ہوئے  جلدی جلدی میں راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔۔اس عالم میں بلال   کنوئیں میں  گر گیا۔۔علی نے جب بلال کو دیکھا  کہ وہ کنوئیں  میں گر گیا تو وہ ایک دم گھبرا گیا اور  اردگرد دیکھا  تو کوئی موجود نہیں تھا۔اچانک کنوئیں کے  قریب   ایک  بالٹی  نظر آئی  جس کے  ساتھ ایک لمبی رسی باندھی ہوئی تھی۔۔
علی نے فورا بالٹی کنوئیں میں پھینکی اور بلال کو آواز دی کہ وہ اس بالٹی کو مضبوطی سے تھامے  رکھے ۔۔علی نے اپنی پوری طاقت لگا کر رسی کو کھینچا اور بلال کو باہر  نکال لایا۔۔
دونوں دوست مارے خوشی کے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگے اور کہنے لگے کہ آج کے واقعے کے بعد اب ہمیں کبھی بھی گھر والے باہر نہیں نکلنے دیں گے اور نہ ہی ہم دونوں اکھٹے کھیل سکیں گے۔
دونوں نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے  اپنے گاؤں کی طرف  دوبارہ روانہ ہو گئے ۔گاؤں پہنچ کر دونوں نے دیر سے آنے کی وجہ سب گاؤں والوں کو بتائی اور اپنے والدین کو بھی۔۔
گاؤں والوں نے ماننے سے  صاف انکار کر دیا کہ ایسا ناممکن ہے کہ علی اتنا چھوٹا ہے وہ کیسے ناصر کی جان بچا  سکتا ہے۔لیکن اچانک اُسی محفل میں بیٹھے ایک بزرگ نے کہا ہے کہ اُنھیں  پکا یقین ہے کہ یہ دونوں  سچ بول  رہے ہیں۔۔
گاؤں  والوں نے حیرانگی سے بزرگ سے پوچھا لیکن آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں سچ  بول رہے ہیں۔بزرگ کچھ  دیر خاموش رہے اور پھر بولے اس بچے کو وہاں یہ کہنے والا  کوئی نہیں تھا کہ تم نہیں کر سکتے ہو ۔جب بچے نے اردگرد نظر دوڑائی تو  اُس کو  کوئی نظر نہیں  آیا جو اُس  کو روکےیا پریشان کر سکیں کہ تم نہیں کر سکتےہو؟۔۔
ہمارے معاشرے  میں نئی نسل کے ڈر اور خوف  کی ایک وجہ یہ  بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ کہہ کر منع کر دیتے ہیں کہ آپ بہت چھوٹے ہو یا پھر آپ یہ کام نہیں  کر سکتے ہیں
جس کی وجہ سے یہی بچے بڑے ہو کر  ڈر اور خوف کا شکار رہتے ہیں اور اُن کے لیے یہ الفاظ  ہمیشہ آڑے آتے ہیں کہ تم نہیں کرسکتے ؟  اور یہی الفاظ زندگی میں کچھ نہیں کرنے دیتے ہیں۔





Comments

Popular posts from this blog

Mashal khan

ناجائز فائدہ

بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنے کے مؤثر اور عملی طریقے