My first blog
انتہا پسندی
تحریر:ساحرہ ظفر
بچہ صبح سے مسلسل رو رہا ہے میں نے بخار کی دوائی بھی دی پیٹ درد کی دوا دے
دی یہاں تک کے ایک دو سیرپ بھی پلا دیے
لیکن آرام نہیں آ رہا ہے اپنی گلی کے کونے
میں چاچا کے پاس بھی لیکر گئی تھی اُنہوں نے بھی دم کیا لیکن آرام نہیں آیا
ایک دو دن کی بات ہو تو پھر بھی لیکن ایک دن آرام آتا ہے اگلے دس دن بیمار
رہتا ہے
پاکستان میں اس
وقت ہر فورم پر دہشت گردی کو ملک کی ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ امن کی
راہ میں حائل رکاوٹ تصور کیا جا
رہا ہے
یہاں تک کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں دہشت گردی
کو بڑا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے لیکن
شاید اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی ہے دہشت
گردی کے خلاف ہم ردالفساد اور ضرب
عزب جیسے بڑے بڑے آپریشن کر سکتے ہیں لیکن
انتہا پسندی کے خلاف نہ ہم آپریشن کر سکتے
ہیں اور نہ ہی پھانسی دے سکتے ہیں کیونکہ
انتہا پسندی جسم پر نہیں دماغ میں پکا پکا کر چٹان کی طرح مضبوط کی جا رہی ہے جو کسی
کو نظر نہیں آتی بس اندر ہی اندر سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
انتہا پسندی کی تیزی سے مقبولیت اب یونیورسٹی تک پھیل گئی
ہے یہاں یہ بات باعث شرم بھی ہے اور باعث
افسوس بھی کہ یونیورسٹی کوئی مدرسہ نہیں
ہے بلکہ وہ ادارہ ہے جہاں نئی فنون و جدت
سے آگاہ کیا جاتا ہے
14 اپریل 2017 کو میڈیکل
یونیورسٹی میں ایم بی بی
ایس سال دوئم کی طالبہ نورین لغاری نامی
لڑکی کو لاہور سے گرفتار کیا جو ایک چرچ پر خودکش حملہ کرنے والی تھی جبکہ اس کے والد یونیورسٹی میں کمیسٹری کے پروفیسر ہیں
9 مارچ 2016 کو
سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے
شہباز تاثیر کو انجیننئر نگ یونیورسٹی
کے چار طالب علموں نے اغوا کیا تھا
اسی طرح سانحہ صفورہ کے ملزم سعد عظیم آئی بی اے کے طالب
علم تھے اس نے اپنی ابتدائی تعلیم بیکن
ہاؤس سے حاصل کی تھی جبکہ ان کے دوسرے دوست
نے سرسید یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری
لی تھی اور تیسرا ساتھی کراچی یونیورسٹی کا طالب علم تھا
8 ستمبر 2016 کو اسلام آباد ائیر پورٹ میں جنید جمشید پر
حملہ کرنے والے لڑکے یونیورسٹی کے طالب علم تھے
جبکہ اب 13 اپریل
2017 کو مردان یونیورسٹی میں قتل ہونے والا
طالب علم اور قاتل یونیورسٹی کے طالب علم تھے
انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں سب سے پہلے والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی
ہے کہ وہ اپنے بچوں پر مکمل نظر رکھیں کب
آرہا ہے کدھر جا رہا ہے کن دوستوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہے ۔
دوسری بڑی ذمہ داری اساتذہ کرام کی ہے استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا ہے لیکن بادشاہ بناتا ضرور ہے اپنے طالب علموں کے ساتھ ایسا ماحول بنائے بچے
اُسے استاد کا درجہ بھی دے اور ہر بات اُس سے شئیر بھی کریں ۔
پاکستان میں اس وقت انتہا
پسندی اُس بچے کی بیماری کی طرح
ہے جس کو روکنے کے لیے ہم کبھی موبائل سروس بند کر کے پاکستان دن مناتے ہیں تو کبھی فضائی اور زمینی
سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر کے مختلف
دواؤں اور سیرپ سے وقتی ماحول کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اصل
بیماری کی جڑ تک پہنچے کی بالکل کوشش نہیں کر رہے ہیں اُس ماں کی طرح ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے گلی محلے میں افادہ
ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں دہشت
گردی کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کو اندر
ختم کرنے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والا مستقبل اپنا مستقبل انتہا پسندی میں ہی بنا لے
گا۔
Comments
Post a Comment